کراچی( )پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفی کمال نے کہا ہے کہ 14مئی کو حکمرانوں کی محلوں کی طرف مارچ کریں گے،مصطفی کمال اور انیس قائم خانی کی لیے مراعات حاصل کرنے کیلے نہیں اپنے عوام کی آواز بن کر پر امن مارچ کریں گے اپنے عوام کے حذف کیے ہوئے حقوق حاصل کر کے رہیں گے،2.5 کروڑ کراچی کے لوگوں میں سے 10 لاکھ لوگ اس شہر کی سڑکوں پر نکلیں گے تو حکمرانوں کے محلوں تک ان کے قدموں کی آواز گونجے گی، تمام قومیتیں، مسالک، تاجر، وکلا، پولیس سرونٹ، ٹرانسپورٹرز سب ایک ساتھ نکلیں گے، حکمرانوں عوام کے ہاتھوں کو اپنے گریبان تک پہنچنے سے پہلے ان کے حقوق دے دو 18 دنوں میں ثابت ہوا کہ تم تمام حالات کے باوجود حکمران مردہ باد کہ کر اٹھ رہے ہوں ہم پاکستان بنانے والوں کی اولادیں ہیں پاکستان زندہ باد کہیں گے 16 مطالبات زندہ ہیں ان پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا، حکومت سے ڈیل کر کے نہیں اٹھ رہے، 14 مئی کے دن ٹرانسپورٹ نہیں دے سکتے، ٹرانسپورٹرز، عوام اپنی گاڑیوں میں عوام کو لے کر آئیں ہم غریب پارٹی ہیں لیکن جدوجہد اپنے عوام کیلے کر رہے ہے 16مطالبات زندہ ہیں، حکومت سے ڈیل کر نہیں اٹھ رہے،14 مئی کے دن ٹرانسپورٹ نہیں دے سکتے، ٹرانسپورٹرز، عوام اپنی گاڑیوں میں عوام کو لے کر آئیں ہم غریب پارٹی ہیں جدوجہد اپنے عوام کیلے ہی کر رہے ہیں آج پریس کلب سے ریلی کی شکل میں پاکستان ہاؤس جائیں گے اب ہم عوام کے پاس جا کر انہیں ملین مارچ میں شرکت کیلئے دعوت دیں گے ان خیالات اظہار انہوں نے کراچی پریس کلب کے باہر لگائے گئے ا حتجاجی کیمپ کے اٹھارویں روز ذمہداران و کارکنان سے خطاب کر تے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ عوام نے ہمیں وقت کے فرعون سے لڑنے کی طاقت دی پاک سرزمین پارٹی کے کارکنان نے دکھا دیا کہ ہم شرپسند نہیں محب وطن ہیں ہم نے کوئی گاڑی نہیں جلائی، کوئی سڑک بلاک نہیں کی اور نہ عوام کو تنگ کیا غریب عوام کے حقوق دلوانے کیلئے ہمارا یہ جہاد جاری رہے گاانہوں نے کہا کہ انہو ں نے کہاکہ ہم کسی کو دیکھ کر نہیں دوسری جماعتیں ہم کو دیکھ کر آج سڑکوں پر ہیں،3 مارچ، 24 اپریل، پکا قلعہ اور 29 جنوری کی تقریر نکال کر دیکھیں، مصطفی کمال اور انیس قائم خانی کیا بات کرتے رہے ہیں انہوں نے کہاکہ عوام یہ سوچ کر بیٹھ گئے تھے کہ ہمیں اپنے بنیادی وسائل نہیں ملیں گے لیکن پاک سرزمین پارٹی نے مایوسی کے بتوں کو توڑا ہے اور عوام میں امید کی کرن جاگ گئی ہے،18 دنوں میں عوام نے احتجاج آگے بڑھانے کیلئے ہم ہر زور دیا کہ وزیر اعلی اور گورنر ہاؤس پر دھرنا دیں انہون نے کہاکہ ایک ایسی جماعت ہے جو موسم کی شدت برداشت کر رہی ہے اور عوام کے حقوق کی بات کر رہی ہے اپنے مفادات کی ایک بات نہیں کی، صرف عوام کے مسائل کے لیے حکومت کو آواز لگائی ہے انہوں نے کہاکہ لوگوں نے ہم پر نظر رکھی کے شاید مصطفی کمال اور انیس قائم خانی گھر جاتے ہوں گے لیکن انہوں نے ہمیں اسی فٹ پاتھ پر پایاانہون نے کہاکہ کراچی کے لوگوں تم یاد رکھو کہ ہم سابقہ جماعت کو تمہاری خاطر خیر باد کہا تھاجن کمروں میں بیٹھے تھے وہاں تمہارے حقوق کی بات نہیں ہو رہی تھی ہمیں پارٹی سے نکالا نہیں گیا تھا ہم نے خود اپنے ضمیر کی آواز پر فیصلہ کیا انہوں نے کہاکہ آج کراچی کے وکلاء، تاجروں، سول سوسائٹی اور عوام نے اس احتجاجی کیمپ میں آکر ہمارے احتجاج کی حمایت کی انہون نے کہاکہ کراچی میں گزشتہ تین دہائیوں سے لوگوں نے ایک جماعت کو ووٹ دیے جانوں کا نظرانہ پیش کیا اور نام نہاد وارثوں نے اپنے عوام کے حقوقِ کیلئے کوئی احتجاج نہیں کیا لندن میں بیٹھے شخص کی شناختی کارڈ، پاسپورٹ کیلئے احتجاج کیا گیا انہوں نے کہاکہآج عوام کو پتا چل گیا ہے کہ ان کے مسائل کے حل کیا بات کون کر رہا ہے ہم صرف الطاف حسین کی ایم کیو ایم کو جانتے ہیں شہر کی تمام سیاسی جماعتوں کو پاک سرزمین پارٹی نے عوام کے حقوق کیلئے سڑکوں پر نکلنے ہر مجبور کیاانہوں نے کہاکہ حکومتی ارکان آئے اور ہمارے کچھ مطالبات کو کاغذ ہر تسلیم کیاہمارا جواب تھا کہ اگر کام شروع کیا گیا تو ہم خود اٹھ جائیں گے یہاں بیٹھے رہنے سے ہمارے باتوں پر کان نہیں دھرے جائیں گے انہون نے کہاکہ کارکنان ہمارے آواز ہر چل پڑی گے اور شہر کا نظام درہم برہم کریں گے لیکن ہم نے ایسا نہیں کیا اگر عوام کو لیکر ریڈ زون کراس کروں تو ہمارا احتجاج میڈیا ہر ہوگا، گرفتاریاں، شیلنگ شروع ہوجائے گی اور ہمارے مطالبات پیچھے رہ جائیں گے انہوں نے کہاکہ ہم ایمانداری سے اپنے لوگوں کے حقوق کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں 16 مطالبات میں سے کوئی مطالبہ ایسا نہیں جس سے مصطفی کمال اور انیس قائم خانی کو فائدہ ہو ہمارا بدترین دشمن اس شہر کے میئر کیلے ہم اختیارات مانگ رہے ہیں، سید مصطفی کمال نے پریس کلب آئے ہوئے تمام بزرگوں، خواتین، وکلاء، تاجروں اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں کی امد کا شکریہ ادا کرتا ہوں، انہوں نے کہاکہ پریس کلب کے ارکان اور میڈیا کے لوگوں کا بہت شکریہ جنہوں نے ہمارے احتجاج کی کوریج کی ہمیں پریس کلب میں سہولیات دیں انہوں نے کہاکہ پریس کلب آئے ہوئے تمام بزرگوں، خواتین، وکلاء، تاجروں اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں کی امد کا شکریہ پریس کلب کے ارکان اور میڈیا کے لوگوں کا بہت شکریہ جنہوں نے ہمارے احتجاج کی کوریج کی ہمیں پریس کلب میں سہولیات دیں.