کراچی ()چیئرمین پی ایس پی سید مصطفی کمال نے کہاکہ لیاقت آباد سے شروع ہونے والی تحریک پورے ملک میں جاتی ہے سلام لیاقت آباد کے لوگوں کو جنہوں نے اج اس پنڈال کو بھر کے کر یہ ثابت کر دیا ہے سید مصطفی کمال اور انیس قائم خانی حق اور سچ پر ہے جس تحریک میں لیاقت کے لوگ کھڑے ہوجائے اس تحریک کوئی طاقت نہیں روک سکتی ہے میرے انے والے بچوں کا مسقتبل بہت روشن ہے ہماری بتائی ہوئی جگہ پر ڈھائی کرروڑ عوام سے صرف دس لاکھ لوگ سڑکوں پر نکلے آئے تو اپنے وسائل 30منٹ حاصل کرکے گھروں کو لوٹیں گے ان خیالات اظہار انہوں نے 14مئی حوالے سے عوامی رابطہ مہم کے سلسلے میں لیاقت آبادمنعقدہ عوامی جلسہ میں عوام کے جم غفیر سے خطاب کر تے ہوئے کیااانہوں نے کہاکہ مصطفی کمال تب تک انتظار کرسکتا ہے جب تک شہر کے تمام لوگ درد برداشت کرنے کیلئے تیار نہ ہوجائیں آج یہاں سے اٹھ کر اپنے گلی محلے کے لوگوں کو ان کے وسائل کے حصول کیلئے نکلنے کیلئے تیار کرو عوام سڑکوں پر نکل پڑے تو 30 منٹ سے پہلے اپنے لیے مسائل کو حل لے کر واپس ہوں گے انہوں نے کہاکہ لیاقت آباد کے کارکنان ایم کیو ایم پاکستان اور لندن سے لڑائی نہیں کرنی ہے ان کے ساتھ بیٹھو، اننکے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھ کر حل کرو اگر کوئی تمہاری بات مانے تو اس گلے لگاؤ اگر نہ مانے تو اور زیادہ زور سے گلے لگاؤ جو جس نظریہ پر چلا یے اس سے جھک کر ملو انہوں نے کہاکہ آج لوگوں کو اتنا بڑا اجتماع اس بات کو ثبوت ہے کہ مصطفی کمال اور انیس قائم خانی نے بندوق کی نوک پر کسی کو نہیں جمع کیا ہماری سچائی تمہاری تعداد سے ظاہر ہو گئی ہے وہ وقت دور نہیں جہاں سے گزرو گے کامیابی تمہارے قدم چومے گی یہاں سے اٹھ کر اپنے مخالفین کے پاس جانے انہیں محبت کو پیغام دینا ،میں اپنے کارکنان کو کنویں کا مینڈک نہیں بنانا چاہتا اس شہر اور اس علاقے سے وہ قیادت نکلے گی جو پورے ملک میں روشنیوں کے چراغ روشن کرے گی انہوں نے کہاکہ 18 دنوں تک پریس کلب کے سامنے گھر جائے بغیر اپنی ضروریات زندگی پوری کی اگر ہمارے 16 مطالبات نہیں مانے گئے تو کراچی رہنے کے لایق شہر نہیں رہے گا اس ملک میں کئی احتجاج ہوے، A/C کنٹینرز اور پوری شان و شوکت کے ساتھ احتجاج کیے گے انہوں نے کہاکہ پاکستان کی تاریخ کو انوکھا احتجاج پاک سرزمین پارٹی نے کر کے دکھایا جسے میڈیا سمیت تمام عوام نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کراچی کے مسائل کے حل کیلئے عوامی رابطہ مہم کا آغاز لیاقت آباد سے کرنے پر فخر ہے انہوں نے کہاکہ لیاقت آباد سے جو آواز اٹھتی ہے وہ پورے ملک تک جاتی ہے آنے والے دن کراچی کی محرومیوں سے نجات کے دن ہوں گے کالے اور پیلے اسکول میں پڑھنے والے والدین کو گرامر اسکول میں داخلہ دلوانے کی پرواہ نہیں ہوگی انہوں نے کہاکہ آج ہمارے پانی کو چوری کر کے ہمارے ہی لوگوں کو بیچا جارہا ہے اس شہر کے بزرگ پینشن نے ملنے پر خودکشی اور والدین اپنے بچوں کو صاف پانی پلانے کیلے ترس رہے ہیں انہوں نے کہاکہ انڈیا کی حکومت نے یہ سب نہیں کیا، ہمارے حکمرانوں نے یہ حال اپنے مفادات کی خاطر کیا انہوں نے کہاکہ ظلم و بربریت کے خلاف آواز لگانی ہے، قبر میں مصطفی کمال سے سوال ہوگا کہ لیاقت آباد کے لوگوں کو آواز لگائی کہ نہیں اورہماری قبروں پر ظالم کے خلاف آواز نہ لگانے پر عذاب اترے گا انہوں نے کہاکہ اس علاقے کے لوگ جس کاروان میں شامل ہوگئے ہیں یہ ضرور اس شہر کے مستقبل کو روشن بنائیں گے اس صوبے کے حکمرانوں سے ایک ایک ظلم کا حساب لیں گے، اختیارات نچلی سطح پر منتقل کروا کر رہیں گے انہوں نے کہاکہسابقہ جماعت کو اس شہر میں 9 الیکشن میں ووٹ، کھالیں، فطرہ، زکوۃ اور نوجوانوں نے اپنی جانیں دیں آج اسی جماعت کے پاس ساری سیٹیں ہیں، لیکن اب اور کیا چاہیے انہیں، 25000 نوجوان قربان ہوگئے لیکن آج تک ہمارے مسائل حل ہوئے؟ اب بھی قوم سے قربانی مانگتے ہیں انہوں نے کہاکہ لیاقت آباد کے لوگ اب اور کیا دیں جو ہمیں صاف پانی، بجلی، گیس روزگار اور ٹرانسپورٹ ملے گی ووٹ لیت وقت آسمان سے توڑ لانے ک باتیں کی گئیں تھیں اگلی نسلوں کیلئے حالا ت کو بدلنے کی جدوجہد کروانہوں نے کہاکہ آج پاک سرزمین پارٹی کراچی سے نکل کر اندرون سندھ، پنجاب، بلوچستان، خیبر پختون خواہ، گلگت اور کشمیر میں موجود ہے مڈل ایسٹ، یورپ، امریکہ، برطانیہ سمیت جہاں کہیں بھی پاکستانی موجود ہیں وہاں پی ایس پی موجود ہے انہوں نے کہاکہ18 دنوں کے احتجاج ہر کچھ وزراء آئے اور 9 مطالبات مان لیے اور دھرنا ختم کرنے کی بات کی ہمارا جواب تھا کہ ہماری فکر نہیں کریں عوام کے مفاد میں ہمارے مطالبات مان لیں اور کام شروع کریں جب کام شروع ہوگا تو ہم خود آٹھ کر گھروں کو چلے جائیں گے انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی الطاف حسین کی عادت ہوگئی تھی کہ رات کو حکومت سے باہر اور صبح رحمان ملک کا استقبال اور حکومت میں واپس انہوں نے کہاکہ کراچی کے علماء، تمام مسالک اور قومیتوں کے لوگوں کو پتا چل گیا کہ مصطفی کمال اور انیس قائم خانی کس کے لیے بیٹھے ہیں ہمارے دھرنے کے دنوں میں نوبیاہتا جوڑے، مائیں بہنیں کھانا اور چائے ہمارے لیے لیکر آئے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ریڈ زون کراس کر سکتا تھا، بڑی خبر بنتی لیکن حاصل کچھ نہیں ہوتا اس شہر ہے لوگوں کو اپنے اور آیندہ آنے والی نسلوں کیلئے سوئی کی چبھن برداشت کرنا پڑے گی